بشنوئی: وہ قبیلہ جو درختوں اورنوشیرواں کے تحفظ کے لیے جان دینے سے نہیں کتراتا
صدیوں پرانی ماحولیاتی حکمت اور عدم تشدد کی وہ داستان جو آج کے جدید ماحولیاتی بحران میں مشعلِ راہ ہے۔

ہندوستان کے تھار ریگستان کے تپتے ہوئے ٹیلوں کے درمیان، جہاں زندگی کی بقا ایک مستقل جدوجہد ہے، ایک ایسی برادری بستی ہے جس کی جڑیں زمین کے ساتھ اتنی گہری ہیں کہ وہ اسے بچانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ یہ بشنوئی ہیں۔ ان کا مذہب محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ ماحولیاتی نظام کی تحفظ کا ایک زندہ جاوید عہد ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا موسمیاتی تبدیلیوں اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان سے نبرد آزما ہے، بشنوئیوں کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان اور فطرت کے درمیان تعلق محض استحصال کا نہیں بلکہ باہمی تقدس کا ہونا چاہیے۔ ان کے لیے ایک ہرن یا ایک درخت صرف مادی شے نہیں، بلکہ خاندان کا ایک فرد ہے جس کی حفاظت ان کا اولین مذہبی فریضہ ہے۔
گرو جمبھیشور اور انتیس اصول
بشنوئی فرقے کی بنیاد پندرہویں صدی میں گرو جمبھیشور (جمبھو جی) نے رکھی تھی۔ 'بشنوئی' کا لفظ دراصل دو ہندی الفاظ 'بیس' (20) اور 'نو' (9) سے مل کر بنا ہے، جو ان کے انتیس اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ان اصولوں میں جہاں ذاتی صفائی اور روحانی پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے، وہاں ایک بڑا حصہ ماحولیاتی تحفظ اور جانوروں کے ساتھ ہمدردی کے لیے وقف ہے۔ ان کے لیے سبز درخت کاٹنا ایک ناقابلِ معافی گناہ ہے، اور وہ گوشت خوری سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔ یہ محض ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے جو آج سے پانچ سو سال پہلے ایک ایسے معاشرے میں تشکیل دیا گیا تھا جہاں وسائل کی شدید قلت تھی۔
- کسی بھی جاندار کے ساتھ تشدد سے گریز (اہنسا)۔
- سبز درخت، بالخصوص 'کھیجڑی' کے درخت کو کاٹنے پر مکمل پابندی۔
- تمام جانداروں، خاص طور پر کالے ہرن اور چنکارا کی حفاظت۔
- پانی کو چھان کر استعمال کرنا تاکہ چھوٹے جانداروں کو نقصان نہ پہنچے۔
- سادہ اور نباتیاتی (ویگن/ویجیٹیرین) غذا کا استعمال۔

کھیجرلی کی قربانی: تاریخ کا پہلا ماحولیاتی احتجاج
بشنوئیوں کی تاریخ میں سب سے المناک اور متاثر کن باب 1730ء میں پیش آیا۔ جودھ پور کے مہاراجہ کو اپنے نئے محل کی تعمیر کے لیے لکڑی کی ضرورت تھی، جس کے لیے اس کے سپاہی کھیجرلی نامی گاؤں پہنچے۔ وہاں کے بشنوئیوں نے اپنے مقدس درختوں کو کٹنے سے بچانے کے لیے ان سے لپٹنا شروع کر دیا۔ اس احتجاج کی قیادت امرتا دیوی نامی خاتون نے کی۔ ان کا مشہور قول آج بھی راجستھان کی فضاؤں میں گونجتا ہے: 'اگر ایک سر کٹنے کے بدلے میں ایک درخت بچ جائے، تو یہ ایک سستا سودا ہے۔' بدقسمتی سے، بادشاہ کے سپاہیوں نے کوئی رحم نہ دکھایا۔
“اگر ایک سر کٹ جائے اور ایک درخت بچ جائے، تو سمجھو سودا سستا ہے۔”
امرتا دیوی کے بعد ان کی تین بیٹیوں اور پھر گاؤں کے 363 دیگر افراد نے ایک ایک کر کے اپنی جانیں قربان کر دیں۔ وہ درختوں کو گلے لگاتے رہے اور سپاہی انہیں کاٹتے رہے۔ جب مہاراجہ کو اس قتلِ عام کی اطلاع ملی، تو وہ لرز اٹھا اور اس نے فوری طور پر درختوں کی کٹائی روکنے اور بشنوئی علاقوں میں شکار پر پابندی کا حکم جاری کیا۔ یہ تاریخی واقعہ دنیا میں 'چپکو تحریک' (Chipko Movement) کی بنیاد بنا، جو صدیوں بعد جدید ہندوستان میں دوبارہ نمودار ہوئی۔
جنگلی حیات کے ساتھ ایک انوکھا رشتہ
بشنوئی معاشرے میں انسان اور جانور کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیں ہے۔ آپ کو اکثر ایسی تصویریں اور ویڈیوز دیکھنے کو ملیں گی جہاں بشنوئی مائیں ہرن کے یتیم بچوں کو اپنا دودھ پلا رہی ہوتی ہیں۔ ان کے نزدیک تمام جاندار خدا کی تخلیق ہیں اور ان کی حفاظت کرنا اپنی اولاد کی حفاظت کرنے جیسا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بشنوئی دیہاتوں کے قریب کالے ہرن (Blackbuck) اور چنکارا بلا خوف و خطر گھومتے ہیں۔ جہاں ہندوستان کے دیگر علاقوں میں شکار کی وجہ سے جنگلی حیات معدوم ہو رہی ہے، وہاں بشنوئی علاقوں میں ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
راجستھان میں کالے ہرن کی آبادی کا تخمینہ
تحقیق بتاتی ہے کہ بشنوئی برادری کے زیرِ اثر علاقوں میں جنگلی حیات کی کثافت پانچ گنا زیادہ ہے۔ ماخذ: Wildlife Institute of India
قانون کے پاسبان
یہ برادری محض امن پسند ہی نہیں بلکہ اپنے اصولوں کے نفاذ میں انتہائی سخت بھی ہے۔ جب 1998 میں ایک مشہور بالی وڈ اداکار نے ان کے علاقے میں کالے ہرن کا شکار کیا، تو بشنوئی برادری نے بیس سال تک عدالتی جنگ لڑی تاکہ مجرم کو سزا مل سکے۔ یہ ان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ چاہے سامنے کتنی ہی بااثر شخصیت کیوں نہ ہو، وہ اپنی زمین کے معصوم جانداروں کے خون کا سودا نہیں کریں گے۔
کھیجڑی: ریگستان کا کلپ ورکشا
کھیجڑی کا درخت بشنوئی ثقافت کا مرکز ہے۔ یہ درخت ریگستان کی شدید گرمی میں بھی ہرا بھرا رہتا ہے اور زمین میں نائٹروجن کی مقدار بڑھا کر اسے زرخیز بناتا ہے۔ بشنوئی اس درخت کو کاٹتے نہیں، بلکہ صرف اس کی سوکھی شاخیں ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ درخت ان کے لیے 'کائنات کا شجر' ہے جو نہ صرف سایہ فراہم کرتا ہے بلکہ قحط کے دنوں میں انسانوں اور جانوروں کے لیے خوراک کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

جدید دنیا کے لیے اسباق
آج جب دنیا 'پائیدار زندگی' (Sustainable Living) کی بات کرتی ہے، تو بشنوئی یہ طرزِ زندگی صدیوں سے اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان فطرت کا مالک نہیں بلکہ اس کا حصہ ہے۔ جب ہم ایک درخت کاٹتے ہیں یا ایک نسل کو ختم کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے مستقبل کی بنیادیں کھوکھلی کر رہے ہوتے ہیں۔ بشنوئیوں کا گوشت سے پرہیز اور نباتیاتی خوراک پر اصرار محض مذہبی عقیدہ نہیں، بلکہ ریگستانی ماحول میں توانائی کے ضیاع کو روکنے کا ایک بہترین طریقہ بھی ہے۔

امن اور لچک کی علامت
بشنوئی برادری کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ تبدیلی صرف حکومتی پالیسیوں سے نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے ایک گہرا اخلاقی اور روحانی جذبہ درکار ہے۔ یہ لوگ ثابت کرتے ہیں کہ اگر آپ اپنے عقیدے کو عمل میں بدل دیں، تو آپ ریگستان کو نخلستان میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ان کا وجود اس بات کی گواہی ہے کہ انسان اور حیوانات ایک پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔
ماحولیاتی اثرات کا موازنہ
بشنوئی دیہاتوں میں روایتی واٹر ہارویسٹنگ کے ذریعے پانی کے ضیاع میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ ماخذ: UN-Water Report on Indigenous Practices
مستقبل کی طرف ایک نظر
جوں جوں دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور قدرتی وسائل کم ہو رہے ہیں، بشنوئی تحریک کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمیں ان سے یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ہم اپنی ضرورتوں کو محدود رکھ کر فطرت کے ساتھ توازن برقرار رکھ سکتے ہیں۔ بشنوئی صرف ایک کمیونٹی نہیں ہیں، وہ ایک پیغام ہیں—ایک ایسا پیغام جو ہمیں بتاتا ہے کہ زمین ہماری ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کافی ہے، لیکن ہماری حرص کے لیے نہیں۔
- فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کو دوبارہ قائم کریں۔
- مقامی نباتات اور حیوانات کی حفاظت کو ترجیح دیں۔
- کم سے کم وسائل میں خوش رہنا سیکھیں۔
- ماحولیاتی انصاف کے لیے آواز بلند کریں۔
آج جب ہم ماحولیاتی بحران کے دہانے پر کھڑے ہیں، کھیجرلی کے ان 363 شہیدوں کی یاد ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ کیا ہم بھی اپنے سیارے کے لیے اتنی ہی تڑپ رکھتے ہیں؟ بشنوئیوں کا راستہ مشکل ضرور ہے، لیکن یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں اور ہماری آنے والی نسلوں کو ایک سبز اور محفوظ مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔
Sources & further reading
- Poore & Nemecek — Science: reducing food's environmental impacts through producers and consumers
- Our World in Data — Environmental impacts of food production
- Academy of Nutrition and Dietetics — Position on vegetarian and vegan diets
- FAOSTAT — Livestock and food production data