ماحول ·

غذائی تیل کے جانوروں کے چارے سے متعلق 5 غلط فہمیاں

جانوروں کے چارے میں پام کرنل ایکسپیلر کا بڑھتا استعمال، ڈیری فارمنگ پر اس کے اثرات اور بین الاقوامی ماحولیاتی قوانین کی روشنی میں نئے حقائق جانیے۔

2,016 الفاظ · Veg.ac کا روزانہ مضمون
تیل کے پام کے پودوں کے کھیت میں کٹائی کرتے ہوئے مزدور
Veg.ac · AI · تصویری مثال

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے کچن کا پام آئل اور وہ گوشت جو آپ کھاتے ہیں، دونوں کا تعلق ایک ایسے پیچیدہ نظام سے ہے جس کے بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے؟ جب ہم پام آئل کے بارے میں سوچتے ہیں، تو اکثر اس کے ماحولیاتی اثرات، جیسے کہ جنگلات کی کٹائی اور جنگلی حیات کا نقصان، ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔ لیکن ایک اور اہم پہلو ہے جس پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی: جانوروں کے چارے میں پام آئل کا استعمال۔ یہ مضمون غذائی تیل کے جانوروں کے چارے سے متعلق عام غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اس کے حقیقی اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔

غلط فہمی 1: سارا پام آئل خوراک میں استعمال ہوتا ہے

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ پام آئل کا تمام تر استعمال صرف انسانی خوراک، جیسے کہ بسکٹس، چاکلیٹس اور پراسیسڈ فوڈز میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والے پام آئل کا ایک بڑا حصہ، تقریباً 20 فیصد، جانوروں کے چارے کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ جانوروں کے چارے کو توانائی بخش بنانے اور ان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے چارے کی قیمت بھی کم رکھی جا سکتی ہے، جو بالآخر گوشت اور دیگر جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

20%
جانوروں کے چارے میں پام آئل کا تخمینی فیصد استعمال
60%
خوراک میں پام آئل کا تخمینی فیصد استعمال
20%
دیگر استعمالات (مثلاً صابن، کاسمیٹکس)

غلط فہمی 2: پام آئل کی پیداوار کا ماحولیات پر کوئی اثر نہیں پڑتا

پام آئل کی پیداوار، خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں، ماحولیات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ بڑے پیمانے پر پام آئل کے باغات قائم کرنے کے لیے اکثر قیمتی اشنکٹبندیی جنگلات کو کاٹا جاتا ہے۔ یہ جنگلات کاربن کے بڑے ذخیرے ہوتے ہیں اور بہت سے نایاب جانوروں اور پودوں کا مسکن ہیں۔ جب ان جنگلات کو کاٹ کر جلایا جاتا ہے، تو کاربن ہوا میں خارج ہو جاتا ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جانوروں کے چارے میں پام آئل کا استعمال اس مطالبے کو بڑھاتا ہے، جس سے ماحولیاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، پام آئل کی کاشت زمین کے استعمال میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ ہے۔

زمین کے استعمال میں تبدیلی کی بڑی وجوہات (عالمی تخمینہ)

یونٹ: %
زراعت (مجموعی)50
مویشی پالنا30
پام آئل کی کاشت8
دیگر12

یہ اعداد و شمار زمین کے استعمال میں تبدیلی کے کل رقبے میں مختلف شعبوں کے تناسب کو ظاہر کرتے ہیں۔ (ماخذ: FAOSTAT، 2022 کے اعداد و شمار پر مبنی تخمینہ)

پام آئل کے باغات کی توسیع کے لیے جنگلات کی کٹائی کا منظر
پام آئل کے باغات کی توسیع کے لیے جنگلات کی کٹائی کا منظرWikipedia · Palm oil

کاربن کا اخراج اور حیاتیاتی تنوع کا نقصان

دیمک زدہ مٹی اور peatlands پر مشتمل علاقوں میں پام آئل کے باغات کی تعمیر خاص طور پر نقصان دہ ہے۔ ان علاقوں میں جمع ہونے والی کاربن کی بڑی مقدار ہوا میں خارج ہو جاتی ہے، جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق، پام آئل کی غیر پائیدار پیداوار موسمیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، جنگلات کے خاتمے سے متعدد جنگلی جانور، جیسے اورنگوتان، ایشیائی ہاتھی اور بنگال ٹائیگر، اپنی رہائش گاہ سے محروم ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

“پام آئل کی پیداوار زمین کے استعمال میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ ہے، جو جنگلات کے خاتمے اور کاربن کے اخراج میں اضافہ کرتی ہے۔”

— ماحولیاتی سائنسدان

غلط فہمی 3: پام آئل جانوروں کے لیے صحت بخش ہے

اگرچہ پام آئل چارے کو توانائی فراہم کرتا ہے، لیکن اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال یا ناقص معیار کا پام آئل جانوروں کی صحت کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مرغیوں میں، پام آئل کا زیادہ استعمال ان کے جسم میں چربی کی مقدار بڑھا سکتا ہے اور ان کے گوشت کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جانوروں کے چارے میں فیٹی ایسڈز کا مناسب توازن ضروری ہے۔ پام آئل میں پامیٹک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو اگر زیادہ مقدار میں دیا جائے تو جانوروں کے میٹابولزم کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، جانوروں کے چارے میں استعمال ہونے والے پام آئل کی پروسیسنگ اور اس میں شامل دیگر اجزاء بھی ان کی صحت کے لیے اہم ہوتے ہیں۔

40-50%
پام آئل میں پامیٹک ایسڈ کا فیصد
2-5%
جانوروں کے چارے میں چربی کا تجویز کردہ فیصد (مرغیاں)
  • جانوروں کے چارے میں پام آئل کی مقدار کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
  • جانوروں کی خوراک میں فیٹی ایسڈز کا توازن برقرار رکھنا چاہیے۔
  • اعلیٰ معیار کا پام آئل استعمال کیا جانا چاہیے۔
  • جانوروں کی صحت پر اثرات کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے۔

غلط فہمی 4: پائیدار پام آئل کا تصور غیر حقیقی ہے

بہت سے لوگ پام آئل کی پیداوار کے ماحولیاتی اور سماجی مسائل کی وجہ سے اسے مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ پائیدار پام آئل کے حصول کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سرٹیفیکیشن بورڈز جیسے کہ راؤنڈ ٹیبل آن سسٹین ایبل پام آئل (RSPO) نے ایسے معیارات وضع کیے ہیں جن کے تحت پام آئل کی پیداوار کی جاتی ہے۔ یہ معیارات جنگلات کی کٹائی سے گریز، مقامی کمیونٹیز کے حقوق کا احترام، اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ جانوروں کے چارے کی صنعت میں پائیدار پام آئل کا استعمال اس کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

RSPO (راؤنڈ ٹیبل آن سسٹین ایبل پام آئل) سرٹیفیکیشن کا لوگو
RSPO (راؤنڈ ٹیبل آن سسٹین ایبل پام آئل) سرٹیفیکیشن کا لوگوVeg.ac · AI-generated illustration

پائیدار انتخاب کی اہمیت

جب ہم پام آئل کے استعمال کی بات کرتے ہیں، تو یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ خوراک کی مصنوعات خریدتے وقت، جن میں پام آئل استعمال ہوا ہو، ہم پائیدار ذرائع سے حاصل کردہ مصنوعات کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، جانوروں کے چارے کی صنعت میں بھی پائیدار پام آئل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ یہ نہ صرف ماحولیات کے لیے بہتر ہے بلکہ مقامی کمیونٹیز اور جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

غلط فہمی 5: پام آئل کا کوئی مقامی متبادل نہیں

پام آئل کی عالمی پیداوار اور اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کا کوئی مقامی متبادل موجود ہے؟ پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں، جہاں مختلف قسم کے اناج، دالیں اور تیل کے بیج (جیسے سرسوں، مونگ پھلی، سویا بین) وافر مقدار میں اگائے جاتے ہیں، وہ جانوروں کے چارے کے لیے پام آئل کے قدرتی متبادل کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دالیں پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں، جبکہ اناج کاربوہائیڈریٹس اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔ سرسوں کے بیج کا تیل یا مونگ پھلی کا تیل بھی توانائی کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان مقامی وسائل کا استعمال نہ صرف درآمد پر انحصار کم کرتا ہے بلکہ مقامی کسانوں کی معیشت کو بھی سہارا دیتا ہے۔

مقامی طور پر دستیاب پروٹین کے ذرائع (فی 100 گرام)

یونٹ: گرام پروٹین
دالیں (خشک)25
چنا20
مونگ پھلی26
سویابین36

(ماخذ: USDA FoodData Central)

پاکستان کی ایک روایتی اناج کی مارکیٹ، جو مقامی وسائل کی فراہمی کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان کی ایک روایتی اناج کی مارکیٹ، جو مقامی وسائل کی فراہمی کی عکاسی کرتی ہے۔Veg.ac · AI-generated illustration

متبادل کا انتخاب

جانوروں کے چارے کی صنعت کے لیے پام آئل کے متبادل کا انتخاب کرتے وقت، صرف قیمت ہی نہیں بلکہ غذائی قدر، دستیابی اور ماحولیاتی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ مقامی طور پر اگائے جانے والے اناج اور دالوں کا استعمال نہ صرف پام آئل پر انحصار کم کرتا ہے بلکہ خطے کی زرعی معیشت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس قسم کے متبادل، جو مقامی طور پر دستیاب ہوں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور خوراک کے نظام کو زیادہ پائیدار بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

خلاصہ: درست معلومات اور پائیدار مستقبل

پام آئل اور جانوروں کے چارے کے درمیان تعلق پیچیدہ ہے، اور اس کے بارے میں عام غلط فہمیاں موجود ہیں۔ یہ سمجھنا کہ پام آئل کا کتنا حصہ جانوروں کے چارے میں استعمال ہوتا ہے، اس کے ماحولیاتی اثرات کیا ہیں، اور جانوروں کی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، یہ سب اہم ہے۔ پائیدار ذرائع سے حاصل کردہ پام آئل کا انتخاب اور مقامی متبادل کا استعمال اس مسئلے کے حل میں مدد کر سکتا ہے۔ ایک باخبر معاشرہ ہی پائیدار اور صحت مند مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

  1. پام آئل کا ایک بڑا حصہ جانوروں کے چارے میں استعمال ہوتا ہے، نہ کہ صرف خوراک میں۔
  2. پام آئل کی پیداوار جنگلات کی کٹائی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہے۔
  3. جانوروں کے چارے میں پام آئل کا ضرورت سے زیادہ یا ناقص معیار کا استعمال ان کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
  4. پائیدار پام آئل کے سرٹیفیکیشن موجود ہیں جو ماحولیاتی اور سماجی معیارات کو یقینی بناتے ہیں۔
  5. مقامی اناج، دالیں اور تیل کے بیج پام آئل کے قابل عمل متبادل ہیں۔

پام کرنل ایکسپیلر (PKE): ڈیری انڈسٹری کا پوشیدہ ماحولیاتی بوجھ

اکثر بحث صرف خام پام آئل تک محدود رہتی ہے، مگر اس کی ایک اہم ضمنی پیداوار پام کرنل ایکسپیلر (PKE) ہے، جو تیل نکالنے کے بعد بچ جانے والے گودے سے تیار ہوتی ہے۔ تجارتی منڈیوں میں اسے ایک 'بے ضرر فضلہ' قرار دے کر فروخت کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ عالمی مویشی پروری بالخصوص ڈیری فارمنگ کے نظام کا ایک اہم اور منافع بخش ستون بن چکا ہے۔

نیوزی لینڈ اور یورپی ممالک جیسے بڑے دودھ پیدا کرنے والے خطے ہر سال لاکھوں ٹن PKE درآمد کرتے ہیں تاکہ گائے کے دودھ کی چربی بڑھائی جا سکے۔ جب کسی بائی پراڈکٹ کی اتنی بڑی عالمی مانگ پیدا ہو جاتی ہے تو وہ خود پام باغات کی توسیع کا ایک بڑا محرک بن جاتی ہے، جس کے نتیجے میں جنوب مشرقی ایشیا کے بارانی جنگلات پر زرعی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

  • پیٹ لینڈز (Peatlands) کی تباہی: چارے کی فراہمی کے لیے دلدلی زمینوں سے پانی نکال کر لاکھوں ٹن محفوظ کاربن فضا میں خارج کیا جاتا ہے۔
  • حیاتیاتی تنوع کی تضحیک: مونو کلچر باغات کی مانگ اورنگوٹان اور سماٹرن ہاتھیوں کے قدرتی مسکن چھین رہی ہے۔
  • مٹی کے کٹاؤ میں اضافہ: مسلسل کیمیائی کھادوں اور یک فصلہ کاشت سے اراضی بنجر ہو کر دریاؤں میں سلٹ جمع کرنے کا سبب بنتی ہے۔
90% سے زائد
عالمی PKE کا چارے میں تناسب
USDA Foreign Agricultural Service 2023
2.2 ملین ٹن
نیوزی لینڈ کی سالانہ درآمد
Statistics New Zealand 2023
60% تک کاربن
پیٹ لینڈ اخراج کا حصہ
IPCC Special Report on Climate Change and Land

یورپی ڈی فارسٹیشن ریگولیشن (EUDR) اور چارے کی ٹریس ایبلٹی کا بحران

عالمی سطح پر ماحولیاتی قوانین سخت ہو رہے ہیں، جن میں یورپی یونین کا انسدادِ ڈی فارسٹیشن ضابطہ (EUDR) سب سے نمایاں ہے۔ یہ قانون درآمد کنندگان پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ ثابت کریں کہ مویشیوں یا پام کے اجزا 2020 کے بعد جنگلات کاٹ کر تیار کی گئی اراضی سے حاصل نہیں کیے گئے۔ تاہم، جانوروں کے چارے کے پیچیدہ سپلائی چین میں شفافیت لانا ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہو رہا ہے۔

چھوٹی ملوں سے آنے والا پام کا فضلہ بڑے گوداموں میں آپس میں ملا دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ جاننا ناممکن ہو جاتا ہے کہ چارے کی مخصوص بوری کس فارم یا خطے سے آئی تھی۔ جب تک جانوروں کے چارے کے ہر جزو کی اصل جغرافیائی نشاندہی نہیں ہوتی، تب تک کسی بھی ڈیری یا پولٹری فارم کو حقیقی معنوں میں 'ڈی فارسٹیشن فری' قرار نہیں دیا جا سکتا۔

جانوروں کے عام پروٹین چارے کے اجزا کا ماحولیاتی تقابل
چارے کا جزوفی ٹن گرین ہاؤس گیس اخراججنگلات کی کٹائی کا خطرہاہم پیدا کار خطے
پام کرنل ایکسپیلر (PKE)500 تا 1,200 کلو CO2eشدید ترین (استوائی جنگلات)انڈونیشیا، ملائیشیا
سویابین میل700 تا 2,100 کلو CO2eشدید (ایمازون و سیراڈو)برازیل، ارجنٹائن
ریپ سیڈ میل (کینولا)300 تا 650 کلو CO2eکم تا درمیانہیورپی یونین، کینیڈا
سورج مکھی کی کھل200 تا 450 کلو CO2eکممشرقی یورپ، ترکی

اعداد و شمار کا منبع: FEFAC Feed LCA Database 2023 اور Our World in Data۔ اخراج زمینی استعمال میں تبدیلی (LUC) کے اثرات سمیت ہیں۔

  • مخلوط سپلائی چین: درجنوں چھوٹی ریفائنریوں کا خام مال ایک جگہ جمع ہونے سے سرٹیفیکیشن مشکوک ہو جاتی ہے۔
  • ڈیجیٹل میپنگ کی لاگت: دور دراز چھوٹے کسانوں کے لیے جیو لوکیشن ڈیٹا مہیا کرنا مہنگا اور تکنیکی طور پر پیچیدہ عمل ہے۔
  • ضمنی اجزا کی معافی: کئی ممالک میں اب بھی فیڈ بائی پراڈکٹس کو کڑی جانچ پڑتال کے روایتی معیارات سے مستثنیٰ رکھا جاتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

جانوروں کے چارے میں پام آئل کا استعمال کیوں ہوتا ہے؟
پام آئل جانوروں کے چارے کو توانائی فراہم کرتا ہے اور اسے زیادہ غذائیت بخش بناتا ہے۔ اس کے استعمال سے چارے کی قیمت کم رکھی جا سکتی ہے، جو بالآخر گوشت اور دیگر جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی قیمت کو متاثر کرتا ہے۔
پام آئل کی پیداوار سے جنگلات کو کس طرح نقصان پہنچتا ہے؟
پام آئل کے باغات کی توسیع کے لیے اکثر اشنکٹبندیی جنگلات کو کاٹا جاتا ہے۔ یہ جنگلات کاربن کے ذخیرے ہوتے ہیں اور بہت سے جانوروں اور پودوں کا مسکن ہیں۔ جنگلات کی کٹائی سے کاربن ہوا میں خارج ہوتا ہے اور حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچتا ہے۔
کیا جانوروں کے لیے پام آئل کے کوئی صحت کے نقصانات ہیں؟
جی ہاں، پام آئل کی زیادہ مقدار یا اس کے ناقص معیار کا استعمال جانوروں کی صحت کے لیے مضر ہو سکتا ہے۔ یہ ان کے جسم میں چربی کی مقدار بڑھا سکتا ہے اور ان کے میٹابولزم کو متاثر کر سکتا ہے۔
پائیدار پام آئل کیا ہے اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
پائیدار پام آئل وہ ہے جو ماحولیاتی طور پر ذمہ دارانہ طریقے سے تیار کیا جاتا ہے۔ RSPO جیسے ادارے سرٹیفیکیشن فراہم کرتے ہیں جو جنگلات کی کٹائی سے گریز، مقامی کمیونٹیز کے حقوق کا احترام، اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے جیسے معیارات پر زور دیتے ہیں۔
کیا پاکستان اور ہندوستان میں پام آئل کے مقامی متبادل موجود ہیں؟
جی ہاں، پاکستان اور ہندوستان میں وافر مقدار میں اگائے جانے والے اناج، دالیں اور تیل کے بیج (جیسے سرسوں، مونگ پھلی، سویا بین) جانوروں کے چارے کے لیے پام آئل کے قدرتی متبادل کے طور پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
جانوروں کے چارے میں پام آئل کے استعمال سے متعلق سب سے بڑی غلط فہمی کیا ہے؟
سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ سارا پام آئل صرف انسانی خوراک میں استعمال ہوتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا ایک بڑا حصہ جانوروں کے چارے کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے، جو بالآخر خوراک کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔
پام کرنل ایکسپیلر (PKE) اور خام پام آئل کے ماحولیاتی بوجھ میں کیا فرق ہے؟
خام تیل پام کے گودے سے نکالا جاتا ہے جبکہ PKE گٹھلی کے خشک فضلے سے بنتا ہے۔ اگرچہ PKE کو ضمنی پیداوار کہا جاتا ہے، لیکن اس کی بھاری عالمی طلب کے باعث پام کے باغات مسلسل پھیلائے جا رہے ہیں، جس کا کاربن فٹ پرنٹ روایتی تیل جتنا ہی گہرا ہے۔
کیا یورپی یونین کا قانون (EUDR) چارے میں استعمال ہونے والے پام بائی پراڈکٹس پر لاگو ہوتا ہے؟
جی ہاں، یورپی یونین کے انسدادِ ڈی فارسٹیشن قانون (EUDR) کے دائرہ کار میں پام آئل کے تمام مشتقات بشمول پام کرنل کیک اور ایکسپیلر شامل ہیں۔ کمپنیوں پر لازم ہے کہ وہ سپلائی چین کے ہر بیچ کے لیے جی پی ایس کوآرڈینیٹس فراہم کر کے صفر ڈی فارسٹیشن ثابت کریں۔
ڈیری مویشیوں کے لیے پام بائی پراڈکٹس کے پائیدار متبادل کیا ہیں؟
مقامی سطح پر اگائی جانے والی فصلوں کی کھلی، مثلاً سرسوں، ریپ سیڈ، السی اور سورج مکھی کی کھل بہترین متبادل ہیں۔ یہ طویل بحری نقل و حمل، استوائی بارانی جنگلات کے کٹاؤ اور پیٹ لینڈز کے نقصان کے بغیر مویشیوں کو درکار پروٹین اور روغنیات مہیا کرتی ہیں۔
کیا پام کرنل چارے کے استعمال سے دودھ یا مکھن کے معیار پر اثر پڑتا ہے؟
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مویشیوں کو PKE کی زیادہ مقدار دینے سے دودھ میں سیچوریٹڈ فیٹی ایسڈز کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مکھن کی سختی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کا پگھلنے کا درجہ حرارت بدل جاتا ہے، جسے 'پام بٹر سنڈروم' بھی کہا جاتا ہے۔

ماخذ اور مزید مطالعہ

  1. راؤنڈ ٹیبل آن سسٹین ایبل پام آئل (RSPO) — https://rspo.org/
  2. عالمی ادارہ خوراک و زراعت (FAOSTAT) — http://www.fao.org/faostat/en/#data
  3. یونائیٹڈ سٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (USDA FoodData Central) — https://fdc.nal.usda.gov/
  4. Nature Food Journal — https://www.nature.com/natfood/
  5. USDA Foreign Agricultural Service — Oilseeds: World Markets and Trade, Annual Report (2023)
  6. European Commission — Regulation (EU) 2023/1115 on Deforestation-free Products (EUDR) (2023)
  7. FEFAC (European Feed Manufacturers' Federation) — FEFAC Feed Footprint Database and LCA Calculation Guidelines (2023)
  8. Statistics New Zealand — Overseas Merchandise Trade: Animal Feed and Palm Kernel Imports (2023)