غذائی تیل کے جانوروں کے چارے سے متعلق 5 غلط فہمیاں
جانوروں کے چارے میں استعمال ہونے والے پام آئل کے بارے میں عام غلط فہمیوں کو دور کریں اور اس کے اثرات کو سمجھیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے کچن کا پام آئل اور وہ گوشت جو آپ کھاتے ہیں، دونوں کا تعلق ایک ایسے پیچیدہ نظام سے ہے جس کے بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے؟ جب ہم پام آئل کے بارے میں سوچتے ہیں، تو اکثر اس کے ماحولیاتی اثرات، جیسے کہ جنگلات کی کٹائی اور جنگلی حیات کا نقصان، ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔ لیکن ایک اور اہم پہلو ہے جس پر اکثر توجہ نہیں دی جاتی: جانوروں کے چارے میں پام آئل کا استعمال۔ یہ مضمون غذائی تیل کے جانوروں کے چارے سے متعلق عام غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اس کے حقیقی اثرات کو اجاگر کرنے کے لیے ہے۔
غلط فہمی 1: سارا پام آئل خوراک میں استعمال ہوتا ہے
یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ پام آئل کا تمام تر استعمال صرف انسانی خوراک، جیسے کہ بسکٹس، چاکلیٹس اور پراسیسڈ فوڈز میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں پیدا ہونے والے پام آئل کا ایک بڑا حصہ، تقریباً 20 فیصد، جانوروں کے چارے کی صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ جانوروں کے چارے کو توانائی بخش بنانے اور ان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے استعمال سے چارے کی قیمت بھی کم رکھی جا سکتی ہے، جو بالآخر گوشت اور دیگر جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی قیمت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
غلط فہمی 2: پام آئل کی پیداوار کا ماحولیات پر کوئی اثر نہیں پڑتا
پام آئل کی پیداوار، خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیا میں، ماحولیات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ بڑے پیمانے پر پام آئل کے باغات قائم کرنے کے لیے اکثر قیمتی اشنکٹبندیی جنگلات کو کاٹا جاتا ہے۔ یہ جنگلات کاربن کے بڑے ذخیرے ہوتے ہیں اور بہت سے نایاب جانوروں اور پودوں کا مسکن ہیں۔ جب ان جنگلات کو کاٹ کر جلایا جاتا ہے، تو کاربن ہوا میں خارج ہو جاتا ہے، جس سے موسمیاتی تبدیلی میں اضافہ ہوتا ہے۔ جانوروں کے چارے میں پام آئل کا استعمال اس مطالبے کو بڑھاتا ہے، جس سے ماحولیاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ 2023 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، پام آئل کی کاشت زمین کے استعمال میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
زمین کے استعمال میں تبدیلی کی بڑی وجوہات (عالمی تخمینہ)
یہ اعداد و شمار زمین کے استعمال میں تبدیلی کے کل رقبے میں مختلف شعبوں کے تناسب کو ظاہر کرتے ہیں۔ (ماخذ: FAOSTAT، 2022 کے اعداد و شمار پر مبنی تخمینہ)

کاربن کا اخراج اور حیاتیاتی تنوع کا نقصان
دیمک زدہ مٹی اور peatlands پر مشتمل علاقوں میں پام آئل کے باغات کی تعمیر خاص طور پر نقصان دہ ہے۔ ان علاقوں میں جمع ہونے والی کاربن کی بڑی مقدار ہوا میں خارج ہو جاتی ہے، جو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں اضافہ کرتی ہے۔ عالمی ادارہ خوراک و زراعت (FAO) کے مطابق، پام آئل کی غیر پائیدار پیداوار موسمیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، جنگلات کے خاتمے سے متعدد جنگلی جانور، جیسے اورنگوتان، ایشیائی ہاتھی اور بنگال ٹائیگر، اپنی رہائش گاہ سے محروم ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی بقا خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
“پام آئل کی پیداوار زمین کے استعمال میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ ہے، جو جنگلات کے خاتمے اور کاربن کے اخراج میں اضافہ کرتی ہے۔”
غلط فہمی 3: پام آئل جانوروں کے لیے صحت بخش ہے
اگرچہ پام آئل چارے کو توانائی فراہم کرتا ہے، لیکن اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال یا ناقص معیار کا پام آئل جانوروں کی صحت کے لیے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مرغیوں میں، پام آئل کا زیادہ استعمال ان کے جسم میں چربی کی مقدار بڑھا سکتا ہے اور ان کے گوشت کے معیار کو متاثر کر سکتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جانوروں کے چارے میں فیٹی ایسڈز کا مناسب توازن ضروری ہے۔ پام آئل میں پامیٹک ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو اگر زیادہ مقدار میں دیا جائے تو جانوروں کے میٹابولزم کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، جانوروں کے چارے میں استعمال ہونے والے پام آئل کی پروسیسنگ اور اس میں شامل دیگر اجزاء بھی ان کی صحت کے لیے اہم ہوتے ہیں۔
- جانوروں کے چارے میں پام آئل کی مقدار کو کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
- جانوروں کی خوراک میں فیٹی ایسڈز کا توازن برقرار رکھنا چاہیے۔
- اعلیٰ معیار کا پام آئل استعمال کیا جانا چاہیے۔
- جانوروں کی صحت پر اثرات کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے۔
غلط فہمی 4: پائیدار پام آئل کا تصور غیر حقیقی ہے
بہت سے لوگ پام آئل کی پیداوار کے ماحولیاتی اور سماجی مسائل کی وجہ سے اسے مکمل طور پر ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ پائیدار پام آئل کے حصول کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سرٹیفیکیشن بورڈز جیسے کہ راؤنڈ ٹیبل آن سسٹین ایبل پام آئل (RSPO) نے ایسے معیارات وضع کیے ہیں جن کے تحت پام آئل کی پیداوار کی جاتی ہے۔ یہ معیارات جنگلات کی کٹائی سے گریز، مقامی کمیونٹیز کے حقوق کا احترام، اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ جانوروں کے چارے کی صنعت میں پائیدار پام آئل کا استعمال اس کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

پائیدار انتخاب کی اہمیت
جب ہم پام آئل کے استعمال کی بات کرتے ہیں، تو یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ انتخاب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ خوراک کی مصنوعات خریدتے وقت، جن میں پام آئل استعمال ہوا ہو، ہم پائیدار ذرائع سے حاصل کردہ مصنوعات کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، جانوروں کے چارے کی صنعت میں بھی پائیدار پام آئل کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ یہ نہ صرف ماحولیات کے لیے بہتر ہے بلکہ مقامی کمیونٹیز اور جنگلی حیات کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
غلط فہمی 5: پام آئل کا کوئی مقامی متبادل نہیں
پام آئل کی عالمی پیداوار اور اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کا کوئی مقامی متبادل موجود ہے؟ پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں، جہاں مختلف قسم کے اناج، دالیں اور تیل کے بیج (جیسے سرسوں، مونگ پھلی، سویا بین) وافر مقدار میں اگائے جاتے ہیں، وہ جانوروں کے چارے کے لیے پام آئل کے قدرتی متبادل کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دالیں پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں، جبکہ اناج کاربوہائیڈریٹس اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔ سرسوں کے بیج کا تیل یا مونگ پھلی کا تیل بھی توانائی کے ذرائع کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان مقامی وسائل کا استعمال نہ صرف درآمد پر انحصار کم کرتا ہے بلکہ مقامی کسانوں کی معیشت کو بھی سہارا دیتا ہے۔
مقامی طور پر دستیاب پروٹین کے ذرائع (فی 100 گرام)
(ماخذ: USDA FoodData Central)

متبادل کا انتخاب
جانوروں کے چارے کی صنعت کے لیے پام آئل کے متبادل کا انتخاب کرتے وقت، صرف قیمت ہی نہیں بلکہ غذائی قدر، دستیابی اور ماحولیاتی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ مقامی طور پر اگائے جانے والے اناج اور دالوں کا استعمال نہ صرف پام آئل پر انحصار کم کرتا ہے بلکہ خطے کی زرعی معیشت کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اس قسم کے متبادل، جو مقامی طور پر دستیاب ہوں، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور خوراک کے نظام کو زیادہ پائیدار بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
خلاصہ: درست معلومات اور پائیدار مستقبل
پام آئل اور جانوروں کے چارے کے درمیان تعلق پیچیدہ ہے، اور اس کے بارے میں عام غلط فہمیاں موجود ہیں۔ یہ سمجھنا کہ پام آئل کا کتنا حصہ جانوروں کے چارے میں استعمال ہوتا ہے، اس کے ماحولیاتی اثرات کیا ہیں، اور جانوروں کی صحت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، یہ سب اہم ہے۔ پائیدار ذرائع سے حاصل کردہ پام آئل کا انتخاب اور مقامی متبادل کا استعمال اس مسئلے کے حل میں مدد کر سکتا ہے۔ ایک باخبر معاشرہ ہی پائیدار اور صحت مند مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
- پام آئل کا ایک بڑا حصہ جانوروں کے چارے میں استعمال ہوتا ہے، نہ کہ صرف خوراک میں۔
- پام آئل کی پیداوار جنگلات کی کٹائی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہے۔
- جانوروں کے چارے میں پام آئل کا ضرورت سے زیادہ یا ناقص معیار کا استعمال ان کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
- پائیدار پام آئل کے سرٹیفیکیشن موجود ہیں جو ماحولیاتی اور سماجی معیارات کو یقینی بناتے ہیں۔
- مقامی اناج، دالیں اور تیل کے بیج پام آئل کے قابل عمل متبادل ہیں۔
Frequently asked questions
جانوروں کے چارے میں پام آئل کا استعمال کیوں ہوتا ہے؟
پام آئل کی پیداوار سے جنگلات کو کس طرح نقصان پہنچتا ہے؟
کیا جانوروں کے لیے پام آئل کے کوئی صحت کے نقصانات ہیں؟
پائیدار پام آئل کیا ہے اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
کیا پاکستان اور ہندوستان میں پام آئل کے مقامی متبادل موجود ہیں؟
جانوروں کے چارے میں پام آئل کے استعمال سے متعلق سب سے بڑی غلط فہمی کیا ہے؟
Sources & further reading
- راؤنڈ ٹیبل آن سسٹین ایبل پام آئل (RSPO) — https://rspo.org/
- عالمی ادارہ خوراک و زراعت (FAOSTAT) — http://www.fao.org/faostat/en/#data
- یونائیٹڈ سٹیٹس ڈیپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (USDA FoodData Central) — https://fdc.nal.usda.gov/
- Nature Food Journal — https://www.nature.com/natfood/