ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی درجہ بندی: پروسیسڈ اور ریڈ میٹ کے بارے میں سائنسی حقائق
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے گوشت کی اقسام کی درجہ بندی کے پیچھے کیا سائنس ہے اور اس کا آپ کی صحت اور خوراک پر کیا اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیائی تناظر میں۔

دنیا بھر میں، اور خاص طور پر پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں، گوشت کی کھپت ایک اہم غذائی جزو ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کی جانب سے پروسیسڈ اور ریڈ میٹ کے بارے میں جاری کردہ درجہ بندی نے صحت کے بارے میں تشویش پیدا کی ہے۔ یہ درجہ بندی صرف ایک خبر نہیں ہے، بلکہ یہ برسوں کی تحقیق اور سائنسی شواہد کا نتیجہ ہے۔ اس مضمون میں، ہم اس درجہ بندی کی گہرائی میں جائیں گے، اس کے پیچھے کی سائنس کو سمجھیں گے، اور یہ جانیں گے کہ اس کا آپ کی صحت اور خوراک کے انتخاب پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ ہم اس بات پر بھی غور کریں گے کہ مقامی اور سستے غذائی اختیارات، جیسے کہ دالیں اور اناج، کس طرح صحت مند زندگی گزارنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
WHO کی درجہ بندی کیا ہے؟
عالمی ادارہ صحت کی بین الاقوامی ایجنسی برائے تحقیق برائے کینسر (IARC) نے 2015 میں گوشت کی اقسام کو ان کے کینسر کے خطرے کی بنیاد پر درجہ بند کیا۔ اس درجہ بندی کے مطابق، پروسیسڈ گوشت کو 'کارسینوجینک ٹو ہیومنز' (گروپ 1) کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کے استعمال اور کینسر کے درمیان ایک مضبوط تعلق پایا گیا ہے۔ ریڈ میٹ (جیسے گائے، بھیڑ، بکری کا گوشت) کو 'پربلی کارسینوجینک ٹو ہیومنز' (گروپ 2A) کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے، یعنی یہ ممکنہ طور پر کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔
پروسیسڈ گوشت کی تعریف
پروسیسڈ گوشت سے مراد وہ گوشت ہے جس کو ذائقہ بڑھانے یا اسے محفوظ رکھنے کے لیے نمک، کیورنگ، فرمنٹیشن، سموکنگ، یا دیگر طریقوں سے تبدیل کیا گیا ہو۔ اس میں ساسیجز، ہاٹ ڈاگ، بنکاک، کباب، کارن بیف، اور ڈبہ بند گوشت جیسی اشیاء شامل ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان میں، بہت سے روایتی پکوانوں میں بھی پروسیسنگ کے طریقے استعمال ہوتے ہیں، جنہیں اس درجہ بندی کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔
ریڈ میٹ کی تعریف
ریڈ میٹ سے مراد تمام ممالیہ جانوروں کا گوشت ہے۔ اس میں گائے کا گوشت، بھیڑ کا گوشت، بکری کا گوشت، سور کا گوشت، اور گھوڑے کا گوشت شامل ہیں۔ پولٹری (مرغی، بطخ) اور مچھلی کو ریڈ میٹ میں شامل نہیں کیا جاتا۔

سائنسی پس منظر: کینسر کا خطرہ
IARC کی درجہ بندی کا بنیادی محرک وہ شواہد تھے جو بتاتے ہیں کہ پروسیسڈ گوشت کا باقاعدہ استعمال آنتوں کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ گوشت کو پروسیس کرنے کے دوران پیدا ہونے والے کیمیائی مرکبات، جیسے کہ نائٹروسامینز اور پولی سائیکلک ایرومیٹک ہائیڈرو کاربنز (PAHs)، کینسر کے خلیات کی نشوونما میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ریڈ میٹ کے معاملے میں، ہییم آئرن، جو گوشت کو اس کا سرخ رنگ دیتا ہے، اور گوشت کو تیز آنچ پر پکانے سے پیدا ہونے والے کیمیائی مادے، جیسے کہ ہیٹرو سائیکلک امائنز (HCAs)، بھی خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔
خطرے کی پیمائش: اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ WHO کی درجہ بندی خطرے کے بارے میں بتاتی ہے، نہ کہ یقینی طور پر۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پروسیسڈ اور ریڈ میٹ کا استعمال کینسر کا سبب بن سکتا ہے، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کتنی مقدار میں اور کتنی بار کھاتے ہیں۔ WHO کے مطابق، روزانہ 50 گرام پروسیسڈ گوشت کا استعمال آنتوں کے کینسر کے خطرے کو 18% تک بڑھا سکتا ہے۔ اسی طرح، روزانہ 100 گرام ریڈ میٹ کا استعمال خطرے کو 17% تک بڑھا سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اہم ہیں، لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ مجموعی خطرے میں اضافہ ہے۔
مختلف اقسام کے گوشت کی کینسر کے خطرے کے لحاظ سے درجہ بندی
یہ چارٹ WHO کی درجہ بندی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں 1 سب سے زیادہ خطرے کی نمائندگی کرتا ہے۔
مقامی تناظر: پاکستان اور ہندوستان میں گوشت کی کھپت
پاکستان اور ہندوستان میں، گوشت کی کھپت ثقافتی اور روایتی طور پر اہم ہے۔ بریانی، قورمہ، اور مختلف قسم کے کباب جیسے پکوانوں میں ریڈ میٹ کا استعمال عام ہے۔ اسی طرح، ساسیجز اور دیگر پروسیسڈ گوشت کی مصنوعات بھی بازاروں میں دستیاب ہیں۔ تاہم، ان ممالک میں بہت سے لوگ اب بھی سبزی خور یا نیم سبزی خور خوراک پر انحصار کرتے ہیں، جس میں دالیں، اناج، سبزیاں اور پھل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مقامی غذائیں نہ صرف سستی ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہیں۔

صحت مند متبادل: دالیں اور اناج
خشکی اور پانی کی کمی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے پیش نظر، اور پروسیسڈ و ریڈ میٹ سے وابستہ صحت کے خدشات کے باعث، مقامی طور پر دستیاب دالیں (جیسے مسور، مونگ، چنا، ماش) اور اناج (جیسے گندم، چاول، باجرہ، جوار) ایک بہترین اور سستا متبادل ہیں۔ یہ غذائیں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتی ہیں اور دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور کینسر جیسے امراض کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
- پروٹین کا بہترین ذریعہ (خاص طور پر ویگن اور سبزی خوروں کے لیے)
- فائبر سے بھرپور، جو ہاضمے کو بہتر بناتا ہے اور پیٹ کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے
- کم گلیسیمک انڈیکس، جو خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھتا ہے
- وٹامنز اور منرلز کا خزانہ (آئرن، فولاد، میگنیشیم، وغیرہ)
“صحت مند خوراک کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو پسندیدہ چیزیں چھوڑنی پڑیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ صحت بخش اور سستے متبادل کا انتخاب کریں۔”
خوراک کے انتخاب اور صحت
WHO کی درجہ بندی ایک انتباہ ہے، لیکن یہ خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو ان کے خوراک کے انتخاب کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنا ہے۔ اگر آپ پروسیسڈ یا ریڈ میٹ کے شوقین ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو انہیں مکمل طور پر ترک کرنا پڑے گا۔ تاہم، اعتدال کلید ہے۔ اپنی خوراک میں سبزیوں، پھلوں، دالوں اور اناج کی مقدار بڑھانا صحت کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
حلال اور اخلاقیات
اگرچہ WHO کی درجہ بندی براہ راست مذہبی اصولوں سے متعلق نہیں ہے، لیکن یہ صحت اور اخلاقیات کے بارے میں وسیع تر بحث کو جنم دیتی ہے۔ جانوروں کی فلاح و بہبود، ماحولیاتی اثرات، اور صحت کے خطرات جیسے عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے، بہت سے لوگ اپنی خوراک کے انتخاب پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔ حلال اصولوں کے مطابق، جانوروں کا ذبیحہ اور گوشت کا حصول درست طریقے سے ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحت اور پائیداری کے پہلوؤں کو بھی شامل کرنا ایک ذمہ دارانہ رویہ ہے۔

ماحولیاتی اثرات اور مستقبل
گوشت کی پیداوار، خاص طور پر ریڈ میٹ کی، ماحولیات پر نمایاں اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، پانی کا زیادہ استعمال، اور جنگلات کا خاتمہ شامل ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتے ہوئے موسمی حالات کے پیش نظر، پائیدار غذائی نظام کی طرف بڑھنا ناگزیر ہے۔ سبزیوں پر مبنی خوراک، جو مقامی طور پر اگائی جانے والی فصلوں پر زور دیتی ہے، ماحولیاتی دباؤ کو کم کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔
مختلف غذائی اجزاء کے ماحولیاتی اثرات (فی کلوگرام)
یہ چارٹ مختلف غذائی اجزاء کی پیداوار سے وابستہ کاربن فوٹ پرنٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ اعداد و شمار کا تعلق وسیع تحقیق سے ہے۔
نتیجہ
عالمی ادارہ صحت کی پروسیسڈ اور ریڈ میٹ کی درجہ بندی ایک اہم سائنسی انتباہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم جو کھاتے ہیں اس کا ہماری صحت پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان جیسے ممالک میں، جہاں روایتی طور پر گوشت کی کھپت زیادہ ہے، وہاں صحت بخش اور سستے متبادل، جیسے کہ دالیں اور اناج، کو اپنانا ایک دانشمندانہ قدم ہے۔ خوراک کے انتخاب میں شعور اور اعتدال ہمیں نہ صرف صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دے سکتا ہے، بلکہ یہ ہمارے سیارے کے لیے بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
Sources & further reading
- World Health Organization (WHO) — International Agency for Research on Cancer (IARC)
- The Lancet Oncology — Carcinogenicity of red and processed meat (2015)
- Food and Agriculture Organization of the United Nations (FAO) — Livestock's Long Shadow
- National Institutes of Health (NIH) — Dietary Guidelines for Americans
- PubMed Central — Research articles on meat consumption and cancer risk