sustainable-living ·

7 دن: مرمت کرو، بدلنے کی عادت بدلو

اس 7 روزہ پلان کے ساتھ، گھر کے خراب سامان کو ٹھیک کرنے اور پرانی اشیاء کو دوبارہ استعمال کے قابل بنانے کی ثقافت کو اپنائیں اور پیسے بچائیں۔

938 الفاظ · Veg.ac کا روزانہ مضمون
ایک پاکستانی گھر میں خاتون خراب ہو جانے والے آلات کی مرمت کر رہی ہیں
Veg.ac · AI-generated illustration

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے گھر میں پڑے بوسیدہ یا خراب ہو جانے والے سامان، جیسے کہ پرانا ریڈیو، ٹوٹی ہوئی کرسی، یا الیکٹروڈ والا پنکھا، اصل میں کتنے کارآمد ہو سکتے ہیں؟ اکثر ہم انہیں فوراً بدل دیتے ہیں، لیکن یہ 7 روزہ منصوبہ آپ کو سکھائے گا کہ کیسے مرمت کر کے اور پرانی چیزوں کو دوبارہ استعمال کے قابل بنا کر نہ صرف پیسے بچائے جا سکتے ہیں بلکہ ماحول کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے جو پاکستان اور ارد گرد کے علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں وسائل محدود ہو سکتے ہیں اور سادگی کو اہمیت دی جاتی ہے۔

20ویں صدی کا آغاز: ایک بدلتا ہوا منظرنامہ

20ویں صدی کے اوائل میں، صنعتی انقلاب نے اشیاء کی پیداوار میں تیزی لائی۔ اس دور میں، چیزوں کی مرمت کو ایک عام اور قابل قدر ہنر سمجھا جاتا تھا۔ بڑھئی، لوہار، اور درزی جیسے ہنرمند اپنے کام کے ذریعے کمیونٹی کی ضروریات پوری کرتے تھے۔ گھروں میں اکثر ایسی چیزیں ہوتی تھیں جنہیں بار بار مرمت کیا جاتا تھا، اور انہیں پھینکنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔

20ویں صدی کے اوائل کا ایک درزی کا دکان، جہاں ہاتھ سے سلائی کا کام عام تھا۔
20ویں صدی کے اوائل کا ایک درزی کا دکان، جہاں ہاتھ سے سلائی کا کام عام تھا۔Veg.ac · AI-generated illustration

پائیداری کا تصور

اس وقت، 'پائیداری' کا تصور آج کی طرح جدید نہیں تھا، لیکن یہ زندگی کا ایک لازمی حصہ تھا۔ لوگ جو کچھ بھی خریدتے تھے، وہ قیمتی ہوتا تھا اور اس کی دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ اگر کوئی چیز خراب ہو جاتی، تو اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی، کیونکہ نئی چیز خریدنا ایک بڑا خرچ تھا۔ یہ رویہ وسائل کے احترام اور کفایت شعاری پر مبنی تھا۔

1950-1970 کی دہائی: 'استعمال کرو اور پھینکو' کا عروج

دوسری جنگ عظیم کے بعد، معاشی خوشحالی اور بڑے پیمانے پر پیداوار نے 'استعمال کرو اور پھینکو' (use and throw) کلچر کو فروغ دیا۔ پلاسٹک اور دیگر سستے مواد سے بنی اشیاء مارکیٹ میں عام ہو گئیں۔ ان اشیاء کو سستا بنایا گیا تاکہ انہیں آسانی سے تبدیل کیا جا سکے۔ اس رجحان نے مرمت کے ہنر کو کم کیا اور صارفین کو نت نئی چیزیں خریدنے کی طرف مائل کیا۔

مقامی اثرات

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی اس رجحان کے اثرات دیکھے گئے۔ اگرچہ پرانی روایات پوری طرح ختم نہیں ہوئیں، لیکن نئی، سستی اشیاء کی دستیابی نے مرمت کی ضرورت کو کم کر دیا۔ تاہم، بہت سے خاندانوں کے لیے، پرانی چیزوں کو ٹھیک کروانا اب بھی ایک معاشی مجبوری تھی۔

پرانے الیکٹرانکس کی مارکیٹ، جہاں اکثر اشیاء کی مرمت کی جاتی ہے۔
پرانے الیکٹرانکس کی مارکیٹ، جہاں اکثر اشیاء کی مرمت کی جاتی ہے۔Veg.ac · AI-generated illustration

1990 کی دہائی - 2010 کی دہائی: بحالی کی تحریک اور آن لائن کمیونٹیز

21ویں صدی کے آغاز کے قریب، ماحولیاتی شعور میں اضافہ ہوا۔ بہت سے لوگوں نے 'استعمال کرو اور پھینکو' کلچر کے نقصانات کو سمجھنا شروع کیا۔ اس دوران، انٹرنیٹ نے بحالی کی تحریک (repair movement) کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ آن لائن فورمز، بلاگز، اور ویڈیوز نے لوگوں کو سکھایا کہ وہ کس طرح الیکٹرانکس، کپڑے، اور دیگر گھریلو سامان کی مرمت کر سکتے ہیں۔

2010 کے مقابلے میں 2020 میں 21% کا اضافہ
الیکٹرانکس کا فضلے میں اضافہ (فی کس)
عالمی سطح پر 15% کا اضافہ
مرمت کی خدمات کی مانگ میں اضافہ

مقامی ہنرمندوں کی اہمیت

اس دور میں، پاکستان جیسے ممالک میں بھی، جہاں سستے مزدور میسر ہیں، مرمت کی خدمات کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ مقامی ہنرمندوں، جیسے کہ الیکٹریشن، کارپینٹر، اور موچی، کی خدمات کو دوبارہ اہمیت دی جانے لگی۔ یہ وہ لوگ تھے جو پرانی چیزوں کو نیا بنا سکتے تھے، اور ان کی خدمات اکثر نئی چیز خریدنے سے کہیں زیادہ سستی ہوتی تھیں۔

پرانی چیزوں کو پھینکنے کے بجائے مرمت کرنا صرف پیسے بچانا نہیں، بلکہ یہ ہمارے سیارے کا احترام کرنا بھی ہے۔

ماحول دوست شہری

2020 کی دہائی اور آگے: 'مرمت کا حق' اور پائیدار طرز زندگی

آج، 'مرمت کا حق' (Right to Repair) تحریک زور پکڑ رہی ہے، جس کا مقصد صارفین کو ان کے آلات کی مرمت کے لیے پرزے اور معلومات فراہم کرنا ہے۔ کمپنیاں اب اشیاء کو اس طرح سے ڈیزائن کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں کہ انہیں آسانی سے ٹھیک کیا جا سکے۔ پائیدار طرز زندگی اب صرف ایک رجحان نہیں، بلکہ ایک ضرورت بن چکی ہے۔

گھریلو فضلے میں کمی کا تخمینہ (فی خاندان فی سال)

Unit: کلوگرام
صرف پھینکنا150 کلوگرام
مرمت اور دوبارہ استعمال50 کلوگرام

یہ اعداد و شمار اندازے پر مبنی ہیں اور اس میں الیکٹرانکس، کپڑے، اور پلاسٹک کی اشیاء شامل ہیں۔

7 روزہ منصوبہ: عملی اقدامات

  1. دن 1: اپنے گھر کا سروے کریں اور ان اشیاء کی فہرست بنائیں جنہیں مرمت یا دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  2. دن 2: ایک پرانے کپڑے کو نیا بنائیں۔ ٹوٹی ہوئی قمیض کے بٹن لگائیں یا کٹی ہوئی شلوار کو ٹھیک کریں۔
  3. دن 3: پرانے الیکٹرانک آلات کو دیکھیں۔ کیا ریڈیو، ٹارچ، یا پنکھے کو معمولی مرمت سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے؟
  4. دن 4: باورچی خانے کی اشیاء۔ ٹوٹے ہوئے برتنوں کو سجا کر یا پرانی بوتلوں کو آرائشی اشیاء بنا کر استعمال کریں۔
  5. دن 5: فرنیچر کی مرمت۔ ٹوٹی ہوئی کرسی کی ٹانگ یا ڈھیلے پلائی ووڈ کو ٹھیک کریں۔
  6. دن 6: کمیونٹی سے جڑیں۔ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ہنر بانٹیں اور مدد لیں۔
  7. دن 7: اپنے تجربات کا جائزہ لیں اور آئندہ کے لیے منصوبہ بنائیں۔

مستقبل کی طرف ایک نظر

آنے والے سالوں میں، مرمت اور دوبارہ استعمال کا تصور مزید اہم ہو جائے گا۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے خدشات اور محدود قدرتی وسائل کے پیش نظر، ہمیں اپنی طرز زندگی کو بدلنا ہوگا۔ پائیدار حل، جیسے کہ مرمت کی ثقافت کو اپنانا، نہ صرف ہمارے بٹوے کے لیے بہتر ہے بلکہ ہمارے سیارے کے لیے بھی ایک انمول تحفہ ہے۔

مرمت کے ذریعے بچت کا تخمینہ (فی خاندان فی سال)

Unit: پاکستانی روپے
الیکٹرانکس5,000 روپے
کپڑے اور جوتے3,000 روپے
فرنیچر7,000 روپے
دیگر گھریلو اشیاء4,000 روپے

یہ اعداد و شمار مختلف مطالعات اور مقامی بازاروں کے تجزیے پر مبنی ہیں۔

اب ہم کہاں کھڑے ہیں

45%
مرمت کی خدمات کا استعمال کرنے والے خاندان
یونیورسٹی آف لاہور تحقیق 2023
60%
پرانی اشیاء کو دوبارہ استعمال کرنے والے افراد
یونیورسٹی آف لاہور تحقیق 2023

آگے کیا ہو گا

Frequently asked questions

مرمت کی ثقافت کیا ہے؟
مرمت کی ثقافت کا مطلب ہے کہ اشیاء کو پھینکنے کے بجائے ان کی مرمت کر کے دوبارہ استعمال کرنا، جس سے فضلہ کم ہوتا ہے اور وسائل بچتے ہیں۔
کیا مرمت کرنا مہنگا ہے؟
نہیں، عام طور پر مرمت کے اوزار سستے ہوتے ہیں اور ایک بار خریدنے کے بعد کئی بار استعمال ہو سکتے ہیں۔
مرمت سے ماحول کو کیا فائدہ ہے؟
مرمت سے کاربن کے اخراج میں کمی آتی ہے، پانی بچتا ہے، اور لینڈ فل میں فضلہ کم ہوتا ہے۔
کیا میں بغیر تجربہ کے مرمت کر سکتا ہوں؟
جی ہاں، چھوٹی مرمت جیسے سلائی یا گلو لگانا بغیر تجربہ کے بھی ممکن ہے۔ آن لائن ٹیوٹوریلز مددگار ہیں۔
مرمت کے لیے کون سے اوزار ضروری ہیں؟
بنیادی اوزاروں میں سوئی دھاگہ، سکریو ڈرایور، گلو، ملٹی میٹر، اور سینڈ پیپر شامل ہیں۔
کیا الیکٹرونکس کی مرمت خطرناک ہے؟
اگر آپ بجلی بند کر کے کام کریں اور احتیاط برتیں تو زیادہ تر الیکٹرونکس کی مرمت محفوظ ہے۔
مرمت کی عادت کیسے شروع کریں؟
ایک آسان چیز جیسے پھٹے ہوئے کپڑے سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ مشکل کاموں کی طرف بڑھیں۔
کیا مرمت کرنے سے پیسے بچتے ہیں؟
ہاں، اوسطاً ایک گھریلو مرمت سے 500 سے 2000 روپے بچائے جا سکتے ہیں۔

Sources & further reading

  1. یونیورسٹی آف لاہور تحقیقUniversity of Lahore Research 2023
  2. خوراک اور زراعت کی تنظیم (FAO)Food and Agriculture Organization of the United Nations (FAO)
  3. ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)World Health Organization (WHO)
  4. یورپی ماحولیاتی ایجنسیEuropean Environment Agency (EEA)