ماحول ·

دودھ کی صنعت اور پانی کا بحران: ایک تاریخی جائزہ

دودھ کی بڑھتی ہوئی صنعت نے پاکستان اور ہندوستان کے خشک علاقوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر کو کس طرح متاثر کیا ہے؟ ایک تاریخی جائزہ۔

1,044 الفاظ · Veg.ac کا روزانہ مضمون
Cattle grazing on grassland
Veg.ac · AI-generated illustration

دودھ کی صنعت کا تیزی سے پھیلاؤ، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں، ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے: زیر زمین پانی کے ذخائر کا تیزی سے ختم ہونا۔ بھارت اور پاکستان جیسے ممالک، جہاں دودھ کی پیداوار اور کھپت بہت زیادہ ہے، اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ تاریخی جائزہ اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ کس طرح دودھ کی صنعت نے پانی کے وسائل کو متاثر کیا ہے، اور آج ہم اس صورتحال میں کہاں کھڑے ہیں۔

1950-1970: ڈیری کا ابتدائی دور اور محدود اثرات

آزادی کے بعد، بھارت اور پاکستان دونوں نے اپنی زرعی معیشت کو بہتر بنانے پر توجہ دی۔ اس دور میں، دودھ کی پیداوار زیادہ تر چھوٹے کسانوں اور روایتی طریقوں پر مبنی تھی۔ مویشی پالنا خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے اور مقامی منڈیوں کے لیے ہوتا تھا۔ اس وقت، پانی کے وسائل پر دباؤ نسبتاً کم تھا کیونکہ جانوروں کی تعداد اور ان کی خوراک کی ضروریات محدود تھیں۔ گائے اور بھینسیں اکثر مقامی چرواہوں سے چارہ حاصل کر لیتی تھیں اور ان کے لیے الگ سے پانی کی ضرورت اتنی زیادہ نہیں تھی۔

روایتی ہندوستانی گاؤں میں مویشی، جہاں دودھ کی پیداوار محدود پیمانے پر ہوتی تھی۔
روایتی ہندوستانی گاؤں میں مویشی، جہاں دودھ کی پیداوار محدود پیمانے پر ہوتی تھی۔Veg.ac · AI-generated illustration

1970-1990: سبز انقلاب اور ڈیری کی منصوبہ بند ترقی

سبز انقلاب نے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی، حکومتوں نے ڈیری سیکٹر کو منظم اور ترقی دینے کے منصوبے شروع کیے۔ 'سفید انقلاب' (Operation Flood) جیسے پروگراموں نے بھارت میں دودھ کی پیداوار کو کئی گنا بڑھایا۔ اس کا مقصد دودھ کی قلت کو دور کرنا اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا تھا۔ اس دوران، ڈیری فارموں کا سائز بڑھنے لگا اور جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں، جانوروں کے لیے پینے کے پانی اور چارے کی کاشت کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔

+ 50%
بھارت میں دودھ کی پیداوار میں اضافہ (1970-1990)
NDDB (National Dairy Development Board)
+ 35%
پاکستان میں گائے اور بھینسوں کی تعداد میں اضافہ (1970-1990)
Livestock Census Pakistan

1990-2010: صنعتی ڈیری کا عروج اور پانی کا بحران

عالمی معیشت کے اثرات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ، دودھ اور دودھ سے بنے مصنوعات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس نے بڑے پیمانے پر صنعتی ڈیری فارموں کے قیام کو فروغ دیا۔ ان فارموں میں ہزاروں کی تعداد میں جانور رکھے جانے لگے، جن کے لیے نہ صرف پینے کا پانی بلکہ ان کے چارے کی فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے بھی بہت زیادہ پانی درکار تھا۔ اس دور میں، بہت سے علاقوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر، جو روایتی طور پر آبپاشی کے لیے استعمال ہوتے تھے، ڈیری فارموں کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہونے لگے۔

ڈیری سیکٹر میں پانی کی اوسط کھپت (فی لیٹر دودھ)

Unit: لیٹر
پینے کا پانی (جانور)2 لیٹر
چارے کی فصلوں کی آبپاشی600 لیٹر
فارمز کی صفائی اور پروسیسنگ5 لیٹر

یہ اوسط تخمینہ ہے اور علاقائی اور تکنیکی عوامل کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ (Source: Our World in Data, 2021)

بڑھتی ہوئی پانی کی ضرورتیں

ایک گائے روزانہ اوسطاً 40-50 لیٹر پانی پیتی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ جانوروں کی پیاس بجھانا نہیں، بلکہ ان کے لیے اگائے جانے والے چارے، جیسے مکئی اور جانوروں کے لیے مخصوص گھاس، کی کاشت کے لیے درکار پانی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، ایک کلوگرام گائے کے گوشت کی پیداوار میں جتنا پانی لگتا ہے، اس سے کہیں زیادہ پانی ایک لیٹر دودھ کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے۔ جب ہم اس میں ڈیری فارموں کی صفائی، جانوروں کی دیکھ بھال اور دودھ کی پروسیسنگ کے لیے استعمال ہونے والے پانی کو شامل کرتے ہیں، تو یہ اعداد و شمار خوفناک حد تک بڑھ جاتے ہیں۔

دودھ کی صنعت کا پانی کا قدم بہت بڑا ہے؛ ہر لیٹر دودھ کی پیداوار کے لیے سینکڑوں لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین

2010-تاحال: خشک سالی، موسمیاتی تبدیلی اور ڈیری کا مستقبل

گزشتہ دہائی میں، بھارت اور پاکستان کے کئی حصے شدید خشک سالی کا شکار ہوئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے بارش کے انداز کو غیر متوقع بنا دیا ہے، جس سے زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور راجستھان جیسے زرعی علاقے، جو ڈیری کی پیداوار کے لیے اہم ہیں، پانی کی کمی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں، زیر زمین پانی کی سطح اتنی نیچے چلی گئی ہے کہ اسے دوبارہ بھرنے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

  • زیادہ مقدار میں پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت۔
  • غیر موثر آبپاشی کے طریقے جو پانی ضائع کرتے ہیں۔
  • بڑے پیمانے پر مویشیوں کے لیے پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت۔
  • کم بارش اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ۔
  • آبادی میں اضافے کے باعث پانی کی مجموعی مانگ میں اضافہ۔

حل کی تلاش

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، پائیدار زرعی طریقوں کو اپنانا ضروری ہے۔ اس میں کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت، آبپاشی کے جدید اور موثر طریقے (جیسے ڈرپ اریگیشن)، اور مویشی پالن کے ایسے طریقے شامل ہیں جن میں پانی کا استعمال کم ہو۔ جانوروں کی خوراک میں تبدیلی، جیسے کہ فیڈ میں پانی کی مقدار کو بہتر بنانا، بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت اور پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کا رجحان

Unit: میٹر فی سال
بھارت (اوسط)-0.3 میٹر
پاکستان (اوسط)-0.5 میٹر

یہ اعداد و شمار مختلف تحقیقی رپورٹس اور حکومتی سروے پر مبنی ہیں۔ (Source: Central Ground Water Board India, PCRWR Pakistan)

موجودہ صورتحال: ایک نازک توازن

آج، بھارت اور پاکستان دونوں دنیا کے سب سے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ ڈیری سیکٹر ان کی معیشتوں کا ایک اہم حصہ ہے اور کروڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اس ترقی کی قیمت پانی کے وسائل کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔ بہت سے علاقوں میں، زیر زمین پانی کا استحصال اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اسے پائیدار نہیں سمجھا جا سکتا۔

80-85%
بھارت کی کل پانی کی کھپت میں زراعت کا حصہ
NITI Aayog, India
90-95%
پاکستان کی کل پانی کی کھپت میں زراعت کا حصہ
Ministry of Water Resources, Pakistan
قابل ذکر
ڈیری کے لیے اضافی پانی کی ضرورت
FAO (Food and Agriculture Organization)

مستقبل کی راہ: پائیداری کی طرف

ڈیری سیکٹر کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم پانی کے وسائل کو کتنی مؤثر طریقے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پالیسی سازوں، کسانوں اور صارفین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ حکومتوں کو پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کو تربیت اور وسائل فراہم کرنے ہوں گے تاکہ وہ کم پانی استعمال کرنے والے طریقے اپنا سکیں۔ صارفین کے طور پر، ہمیں اپنے دودھ اور ڈیری مصنوعات کے انتخاب پر غور کرنا ہوگا اور ان مصنوعات کو ترجیح دینی ہوگی جو پانی کے اعتبار سے زیادہ پائیدار ہوں۔

Frequently asked questions

ڈیری کی صنعت میں پانی کا سب سے زیادہ استعمال کہاں ہوتا ہے؟
ڈیری کی صنعت میں پانی کا سب سے زیادہ استعمال جانوروں کے چارے کی فصلوں کو سیراب کرنے میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جانوروں کے پینے کے لیے اور فارم کی صفائی کے لیے بھی پانی درکار ہوتا ہے۔
کیا سبز انقلاب نے پانی کے بحران میں اضافہ کیا؟
سبز انقلاب نے زرعی پیداوار بڑھائی، لیکن اس کے ساتھ ہی پانی کی ضرورت بھی بڑھ گئی۔ خاص طور پر جب اس کے تحت زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کو فروغ دیا گیا۔
بھارت اور پاکستان میں ڈیری کے لیے پانی کا بحران کتنا سنگین ہے؟
یہ بحران بہت سنگین ہے۔ بہت سے علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر گئی ہے، جس سے مستقبل میں پانی کی دستیابی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
کیا دودھ کے متبادل، جیسے پودوں پر مبنی دودھ، پانی بچانے میں مددگار ہیں؟
ہاں، عام طور پر پودوں پر مبنی دودھ (جیسے بادام، جو، یا سویا دودھ) کی پیداوار میں گائے کے دودھ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم پانی استعمال ہوتا ہے۔
کیا ڈیری فارموں میں پانی بچانے کے طریقے موجود ہیں؟
جی ہاں، جدید آبپاشی کے طریقے، پانی کو دوبارہ استعمال کرنا، اور کم پانی والی چارہ فصلوں کا انتخاب جیسے اقدامات پانی کی بچت میں مدد دے سکتے ہیں۔
پائیدار ڈیری کیا ہے؟
پائیدار ڈیری وہ ہے جو ماحول پر کم سے کم منفی اثرات کے ساتھ دودھ پیدا کرتی ہے، جس میں پانی کا مؤثر استعمال، گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کم کرنا، اور جانوروں کی فلاح کو یقینی بنانا شامل ہے۔

Sources & further reading

  1. Operation FloodNational Dairy Development Board (NDDB)
  2. Livestock CensusGovernment of Pakistan
  3. Water Footprint of DairyOur World in Data
  4. Water Scarcity in PakistanPakistan Council of Research in Water Resources (PCRWR)
  5. Water Management in IndiaNITI Aayog
  6. Food and Agriculture Organization of the United NationsFAO