دودھ کی صنعت اور پانی کا بحران: ایک تاریخی جائزہ
دودھ کی بڑھتی ہوئی صنعت نے پاکستان اور ہندوستان کے خشک علاقوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر کو کس طرح متاثر کیا ہے؟ ایک تاریخی جائزہ۔

دودھ کی صنعت کا تیزی سے پھیلاؤ، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں، ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے: زیر زمین پانی کے ذخائر کا تیزی سے ختم ہونا۔ بھارت اور پاکستان جیسے ممالک، جہاں دودھ کی پیداوار اور کھپت بہت زیادہ ہے، اس مسئلے سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ یہ تاریخی جائزہ اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ کس طرح دودھ کی صنعت نے پانی کے وسائل کو متاثر کیا ہے، اور آج ہم اس صورتحال میں کہاں کھڑے ہیں۔
1950-1970: ڈیری کا ابتدائی دور اور محدود اثرات
آزادی کے بعد، بھارت اور پاکستان دونوں نے اپنی زرعی معیشت کو بہتر بنانے پر توجہ دی۔ اس دور میں، دودھ کی پیداوار زیادہ تر چھوٹے کسانوں اور روایتی طریقوں پر مبنی تھی۔ مویشی پالنا خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے اور مقامی منڈیوں کے لیے ہوتا تھا۔ اس وقت، پانی کے وسائل پر دباؤ نسبتاً کم تھا کیونکہ جانوروں کی تعداد اور ان کی خوراک کی ضروریات محدود تھیں۔ گائے اور بھینسیں اکثر مقامی چرواہوں سے چارہ حاصل کر لیتی تھیں اور ان کے لیے الگ سے پانی کی ضرورت اتنی زیادہ نہیں تھی۔

1970-1990: سبز انقلاب اور ڈیری کی منصوبہ بند ترقی
سبز انقلاب نے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی، حکومتوں نے ڈیری سیکٹر کو منظم اور ترقی دینے کے منصوبے شروع کیے۔ 'سفید انقلاب' (Operation Flood) جیسے پروگراموں نے بھارت میں دودھ کی پیداوار کو کئی گنا بڑھایا۔ اس کا مقصد دودھ کی قلت کو دور کرنا اور کسانوں کی آمدنی بڑھانا تھا۔ اس دوران، ڈیری فارموں کا سائز بڑھنے لگا اور جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں، جانوروں کے لیے پینے کے پانی اور چارے کی کاشت کے لیے زیادہ پانی کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔
1990-2010: صنعتی ڈیری کا عروج اور پانی کا بحران
عالمی معیشت کے اثرات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ، دودھ اور دودھ سے بنے مصنوعات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس نے بڑے پیمانے پر صنعتی ڈیری فارموں کے قیام کو فروغ دیا۔ ان فارموں میں ہزاروں کی تعداد میں جانور رکھے جانے لگے، جن کے لیے نہ صرف پینے کا پانی بلکہ ان کے چارے کی فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے بھی بہت زیادہ پانی درکار تھا۔ اس دور میں، بہت سے علاقوں میں زیر زمین پانی کے ذخائر، جو روایتی طور پر آبپاشی کے لیے استعمال ہوتے تھے، ڈیری فارموں کی بڑھتی ہوئی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہونے لگے۔
ڈیری سیکٹر میں پانی کی اوسط کھپت (فی لیٹر دودھ)
یہ اوسط تخمینہ ہے اور علاقائی اور تکنیکی عوامل کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ (Source: Our World in Data, 2021)
بڑھتی ہوئی پانی کی ضرورتیں
ایک گائے روزانہ اوسطاً 40-50 لیٹر پانی پیتی ہے۔ لیکن اصل مسئلہ جانوروں کی پیاس بجھانا نہیں، بلکہ ان کے لیے اگائے جانے والے چارے، جیسے مکئی اور جانوروں کے لیے مخصوص گھاس، کی کاشت کے لیے درکار پانی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، ایک کلوگرام گائے کے گوشت کی پیداوار میں جتنا پانی لگتا ہے، اس سے کہیں زیادہ پانی ایک لیٹر دودھ کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے۔ جب ہم اس میں ڈیری فارموں کی صفائی، جانوروں کی دیکھ بھال اور دودھ کی پروسیسنگ کے لیے استعمال ہونے والے پانی کو شامل کرتے ہیں، تو یہ اعداد و شمار خوفناک حد تک بڑھ جاتے ہیں۔
“دودھ کی صنعت کا پانی کا قدم بہت بڑا ہے؛ ہر لیٹر دودھ کی پیداوار کے لیے سینکڑوں لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے۔”
2010-تاحال: خشک سالی، موسمیاتی تبدیلی اور ڈیری کا مستقبل
گزشتہ دہائی میں، بھارت اور پاکستان کے کئی حصے شدید خشک سالی کا شکار ہوئے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی نے بارش کے انداز کو غیر متوقع بنا دیا ہے، جس سے زیر زمین پانی کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور راجستھان جیسے زرعی علاقے، جو ڈیری کی پیداوار کے لیے اہم ہیں، پانی کی کمی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں، زیر زمین پانی کی سطح اتنی نیچے چلی گئی ہے کہ اسے دوبارہ بھرنے میں دہائیاں لگ سکتی ہیں۔
- زیادہ مقدار میں پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت۔
- غیر موثر آبپاشی کے طریقے جو پانی ضائع کرتے ہیں۔
- بڑے پیمانے پر مویشیوں کے لیے پانی کی بڑھتی ہوئی ضرورت۔
- کم بارش اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ۔
- آبادی میں اضافے کے باعث پانی کی مجموعی مانگ میں اضافہ۔
حل کی تلاش
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، پائیدار زرعی طریقوں کو اپنانا ضروری ہے۔ اس میں کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کی کاشت، آبپاشی کے جدید اور موثر طریقے (جیسے ڈرپ اریگیشن)، اور مویشی پالن کے ایسے طریقے شامل ہیں جن میں پانی کا استعمال کم ہو۔ جانوروں کی خوراک میں تبدیلی، جیسے کہ فیڈ میں پانی کی مقدار کو بہتر بنانا، بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت اور پاکستان میں زیر زمین پانی کی سطح میں کمی کا رجحان
یہ اعداد و شمار مختلف تحقیقی رپورٹس اور حکومتی سروے پر مبنی ہیں۔ (Source: Central Ground Water Board India, PCRWR Pakistan)
موجودہ صورتحال: ایک نازک توازن
آج، بھارت اور پاکستان دونوں دنیا کے سب سے بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ ڈیری سیکٹر ان کی معیشتوں کا ایک اہم حصہ ہے اور کروڑوں لوگوں کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اس ترقی کی قیمت پانی کے وسائل کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔ بہت سے علاقوں میں، زیر زمین پانی کا استحصال اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اسے پائیدار نہیں سمجھا جا سکتا۔
مستقبل کی راہ: پائیداری کی طرف
ڈیری سیکٹر کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم پانی کے وسائل کو کتنی مؤثر طریقے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ پالیسی سازوں، کسانوں اور صارفین کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ حکومتوں کو پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کو تربیت اور وسائل فراہم کرنے ہوں گے تاکہ وہ کم پانی استعمال کرنے والے طریقے اپنا سکیں۔ صارفین کے طور پر، ہمیں اپنے دودھ اور ڈیری مصنوعات کے انتخاب پر غور کرنا ہوگا اور ان مصنوعات کو ترجیح دینی ہوگی جو پانی کے اعتبار سے زیادہ پائیدار ہوں۔
Frequently asked questions
ڈیری کی صنعت میں پانی کا سب سے زیادہ استعمال کہاں ہوتا ہے؟
کیا سبز انقلاب نے پانی کے بحران میں اضافہ کیا؟
بھارت اور پاکستان میں ڈیری کے لیے پانی کا بحران کتنا سنگین ہے؟
کیا دودھ کے متبادل، جیسے پودوں پر مبنی دودھ، پانی بچانے میں مددگار ہیں؟
کیا ڈیری فارموں میں پانی بچانے کے طریقے موجود ہیں؟
پائیدار ڈیری کیا ہے؟
Sources & further reading
- Operation Flood — National Dairy Development Board (NDDB)
- Livestock Census — Government of Pakistan
- Water Footprint of Dairy — Our World in Data
- Water Scarcity in Pakistan — Pakistan Council of Research in Water Resources (PCRWR)
- Water Management in India — NITI Aayog
- Food and Agriculture Organization of the United Nations — FAO