29 ارب جانور: حکومتی خریداری خوراک بدلتی ہے
سرکاری خریداری کے ذریعے 29 ارب جانوروں کی خوراک بدلنے کی صلاحیت کی چھان بین کریں۔ جانیں کیسے دالیں، اناج اور مصالحے ترجیح پا سکتے ہیں، جو صحت اور کفایت شعاری کے لیے بہتر ہے۔

حکومتیں، اپنے وسیع پیمانے پر ہونے والے سودوں کے ذریعے، خاموشی سے لاکھوں افراد کے کھانے کی عادات کو متاثر کرتی ہیں۔ جب وہ اسکولوں، ہسپتالوں، جیلوں اور دیگر سرکاری اداروں کے لیے خوراک خریدتی ہیں، تو ان کی ترجیحات براہ راست زرعی پیداوار اور غذائی رجحانات کو تشکیل دیتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں سرکاری خریداری کے ذریعے سالانہ تقریباً 29 ارب جانوروں کی خوراک کو تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، جس کا مطلب ہے کہ گوشت اور ڈیری مصنوعات کی بجائے پودوں پر مبنی خوراک کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار، اگرچہ براہ راست پاکستانی یا ہندوستانی سرکاری خریداری سے متعلق نہیں ہیں، مگر یہ اس وسیع امکان کو اجاگر کرتے ہیں کہ کس طرح پالیسیاں ہماری پلیٹوں کو بدل سکتی ہیں، خاص کر ان خطوں میں جہاں دالیں، اناج اور مصالحے روایتی خوراک کا اہم حصہ ہیں۔
29 ارب جانوروں کا اثر
یہ 29 ارب جانور، جن میں مرغیاں، گائے، بکریاں اور دیگر شامل ہیں، وہ ہیں جن کی خوراک کو حکومتی پالیسیوں کے ذریعے بالواسطہ طور پر متاثر کیا جا سکتا ہے۔ جب سرکاری ادارے زیادہ پودوں پر مبنی پروٹین جیسے دالیں، پھلیاں اور اناج خریدتے ہیں، تو وہ جانوروں کے لیے درکار چارے (جیسے مکئی اور سویا بین) کی طلب کو کم کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے اہم ہے بلکہ یہ زمین کے استعمال، پانی کی بچت اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں، جہاں دالیں خوراک کا ایک بنیادی جزو ہیں اور مقامی طور پر کاشت کی جاتی ہیں، اس قسم کی پالیسیاں صحت عامہ اور معیشت دونوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
یہاں تک کیسے پہنچے؟
عالمی سطح پر خوراک کے اخراج کا تخمینہ (CO2e)
یہ چارٹ خوراک کے نظام سے متعلق کل گرین ہاؤس گیس کے اخراج کا تخمینہ ظاہر کرتا ہے۔ اعداد و شمار میں جانوروں کی خوراک کی پیداوار کا بڑا حصہ شامل ہے۔ Source: Our World in Data, 2021
تاریخی طور پر، سرکاری خریداری کے معاہدے اکثر سب سے سستے آپشن پر مرکوز رہے ہیں، جس میں جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات اکثر سرفہرست رہتی تھیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں، صحت، ماحولیات اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی نے پالیسی سازوں کو اس پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ مختلف ممالک میں، اسکولوں کے لنچ پروگراموں میں سبزیوں کے اختیارات بڑھانے، یا سرکاری تقریبات میں گوشت کے استعمال کو محدود کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ تبدیلیاں سست روی سے ہو رہی ہیں، مگر ان کا مجموعی اثر نمایاں ہے۔
پاکستان اور بھارت میں مواقع
پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں، جہاں دالیں (جیسے مسور، مونگ، ماش) اور اناج (جیسے گندم، چاول، باجرہ) روزمرہ کی خوراک کا لازمی حصہ ہیں، حکومتی خریداری میں ان کی ترجیح ایک قدرتی اور صحت بخش قدم ہوگا۔ یہ مقامی کسانوں کے لیے ایک مستحکم مارکیٹ فراہم کرے گا، درآمدات پر انحصار کم کرے گا، اور صحت عامہ کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ مثال کے طور پر، اگر سرکاری اسکولوں میں طلباء کو روزانہ کی بنیاد پر دالیں اور سبزیوں پر مبنی کھانے فراہم کیے جائیں، تو یہ نہ صرف غذائی قلت کو کم کرے گا بلکہ صحت مند کھانے کی عادات کو بھی فروغ دے گا۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
جب حکومتیں پودوں پر مبنی خوراک کی زیادہ خریداری کرتی ہیں، تو اس کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف براہ راست جانوروں کی خوراک کی طلب کو کم کرتا ہے بلکہ زرعی زمین کے استعمال میں بھی تبدیلی لا سکتا ہے۔ جانوروں کی افزائش کے لیے اکثر وسیع رقبے پر چارہ اگایا جاتا ہے، جو جنگلات کی کٹائی اور قدرتی رہائش گاہوں کے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ پودوں پر مبنی خوراک کی طرف منتقلی سے یہ زمینیں دوبارہ جنگلات لگانے، قدرتی وسائل کو محفوظ کرنے، یا مقامی فصلوں کی زیادہ پیداوار کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں جو انسانی صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہیں۔
صحت عامہ اور کفایت شعاری
صحت عامہ کے نقطہ نظر سے، پودوں پر مبنی خوراک کو فروغ دینے سے دل کی بیماریاں، ذیابیطس اور کچھ قسم کے کینسر جیسی دائمی بیماریوں کے واقعات میں کمی آ سکتی ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں، جہاں یہ بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، حکومتی خریداری میں تبدیلی ایک اہم روک تھام کا اقدام ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، دالیں اور اناج گوشت اور ڈیری مصنوعات کے مقابلے میں نمایاں طور پر سستے ہوتے ہیں، جس سے یہ زیادہ تر عوام کے لیے قابل رسائی بن جاتے ہیں۔ سرکاری خریداری میں ان کی ترجیح سے بجٹ پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے، جس سے بچائی گئی رقم دیگر عوامی خدمات میں لگائی جا سکتی ہے۔
“حکومتی خریداری کی طاقت خوراک کے نظام کو صحت مند، سستا اور پائیدار بنا سکتی ہے۔”
وہ موازنہ جو اسے سمجھنے میں مدد دیتا ہے
1 کلو گرام پروٹین کی پیداوار کے لیے پانی کا استعمال
یہ چارٹ مختلف پروٹین کے ذرائع کی پیداوار کے لیے درکار پانی کی مقدار کا موازنہ کرتا ہے۔ Source: Poore & Nemecek, Science, 2018
اس موازنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ 1 کلو گرام دالیں پیدا کرنے میں گائے کے گوشت کے مقابلے میں کتنا کم پانی استعمال ہوتا ہے۔ جب ہم سوچتے ہیں کہ سرکاری ادارے، جیسے کہ فوج، جیلیں، یا ہسپتال، ہزاروں لوگوں کے لیے خوراک خریدتے ہیں، تو پانی کی بچت کا یہ فرق بہت بڑا ہو جاتا ہے۔ یہ صرف پانی ہی نہیں، بلکہ زمین، توانائی اور اخراجات کی بچت بھی ہے۔
مصالحوں کی اہمیت
دالوں اور اناج کے ساتھ ساتھ، مصالحے بھی اس غذائی تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہلدی، زیرہ، دھنیا، اور دیگر مقامی مصالحے نہ صرف کھانے کو ذائقہ دار بناتے ہیں بلکہ ان میں صحت بخش فوائد بھی ہوتے ہیں۔ یہ مصالحے اکثر مقامی طور پر کاشت کیے جاتے ہیں اور ان کی تجارتی قیمت بھی مناسب ہوتی ہے۔ سرکاری خریداری میں ان کے استعمال کو بڑھانے سے مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔

جہاں ڈیٹا کمزور ہے
اگرچہ عالمی اعداد و شمار ہمیں ایک وسیع تصویر فراہم کرتے ہیں، لیکن مقامی سطح پر حکومتی خریداری کے حقیقی حجم اور اس میں پودوں پر مبنی خوراک کے تناسب کے بارے میں ٹھوس ڈیٹا کی کمی ہے۔ یہ جاننا مشکل ہے کہ فی الحال کتنی سرکاری خوراک جانوروں کی مصنوعات پر مبنی ہے اور کتنی پودوں پر۔ اس کے علاوہ، پالیسیوں کے نفاذ میں کرپشن اور بدانتظامی بھی ایک چیلنج ہو سکتا ہے، جس سے فوائد کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اگلا قدم: عمل اور احتساب
حکومتی خریداری کے ذریعے خوراک کے نظام میں تبدیلی لانے کے لیے صرف ارادے کافی نہیں، بلکہ ٹھوس اقدامات اور احتساب کی ضرورت ہے۔ اس میں شامل ہیں: 1) سرکاری خریداری کے لیے واضح پالیسیاں بنانا جو پودوں پر مبنی، صحت بخش اور پائیدار خوراک کو ترجیح دیں؛ 2) مقامی طور پر اگائی جانے والی دالوں، اناج اور سبزیوں کی خریداری کو فروغ دینا؛ 3) شفافیت کو یقینی بنانا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ خوراک کہاں سے خریدی جا رہی ہے اور کتنی مقدار میں؛ اور 4) ان پالیسیوں کے اثرات کا باقاعدگی سے جائزہ لینا اور عوام کو اس سے آگاہ کرنا۔
- سرکاری خریداری کے ضوابط میں پودوں پر مبنی غذاؤں کو شامل کریں۔
- مقامی کسانوں سے براہ راست خریداری کو فروغ دیں۔
- اسکولوں اور ہسپتالوں میں صحت بخش مینو متعارف کرائیں۔
- کھانے کے فضلے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
Frequently asked questions
حکومتی خریداری خوراک کے انتخاب کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
کیا دالیں گوشت کا صحت بخش متبادل ہیں؟
سرکاری خریداری میں پودوں پر مبنی غذاؤں کو کیوں ترجیح دینی چاہیے؟
پاکستان اور بھارت میں اس تبدیلی کے کیا فوائد ہوں گے؟
کیا حکومتی خریداری میں شفافیت کا فقدان ایک مسئلہ ہے؟
پودوں پر مبنی خوراک میں کون سے مصالحے اہم ہیں؟
Sources & further reading
- Food and Agriculture Organization of the United Nations (FAO) — fao.org
- Our World in Data — ourworldindata.org
- EAT-Lancet Commission Summary Report — eatforum.org
- Poore & Nemecek, Science, 2018 — science.org