wildlife-oceans ·

کراچی میں ماہی گیری کے جال کا بحری آلودگی پر اثر

کراچی کے ساحل پر ماہی گیری کے پھندوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کا مطالعہ، جو سمندر کی صحت اور مقامی ماہی گیروں کو متاثر کر رہی ہے۔

736 الفاظ · Veg.ac کا روزانہ مضمون
کراچی کے ساحل پر جمع ہونے والے ماہی گیری کے جال
Veg.ac · AI-generated illustration

کراچی کے ساحل سمندر پر، جہاں کبھی سمندر کی لہریں خاموشی سے آتی تھیں، اب ماہی گیری کے پھندوں کا ایک انوکھا منظر نظر آتا ہے۔ یہ پھندے، جنہیں 'گوسٹ گیئر' کہا جاتا ہے، سمندر میں کھوئے ہوئے یا پھینکے ہوئے جال، ڈوریاں اور دیگر سازوسامان ہیں جو سمندری حیات کے لیے ایک خاموش قاتل بن چکے ہیں۔ کراچی کے ساحل پر ان پھندوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہی ہے بلکہ مقامی ماہی گیروں کی روزی روٹی اور سمندر کی صحت کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ یہ مطالعہ کراچی میں گوسٹ گیئر کے مسئلے کی شدت اور اس کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے۔

پس منظر: سمندر میں پھندوں کا مسئلہ

گوسٹ گیئر سمندری آلودگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ یہ وہ ماہی گیری کا سامان ہے جو سمندر میں رہ جاتا ہے اور مسلسل مچھلیاں پکڑتا رہتا ہے، جس سے سمندری جانوروں کی موت واقع ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کی تنظیم (FAO) کے مطابق، دنیا بھر میں سمندری پلاسٹک آلودگی کا تقریباً 10 فیصد حصہ گوسٹ گیئر پر مشتمل ہے۔ یہ جال اکثر نایلان جیسے پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں جو صدیوں تک سمندر میں باقی رہ سکتے ہیں، ٹوٹتے نہیں بلکہ چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جو مزید نقصان پہنچاتے ہیں۔

سمندر میں پھنسے ہوئے ماہی گیری کے جال سمندری حیات کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔
سمندر میں پھنسے ہوئے ماہی گیری کے جال سمندری حیات کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔Veg.ac · AI-generated illustration

کراچی کے ساحل کا حال

کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور ایک اہم بندرگاہ، سمندری آلودگی سے بری طرح متاثر ہے۔ اس کے ساحل سمندر پر، خاص طور پر موسمی بارشوں اور طوفانوں کے بعد، بڑی مقدار میں گوسٹ گیئر بہہ کر آ جاتا ہے۔ یہ جال سمندری جانوروں، جیسے کہ کچھووں، پرندوں اور مچھلیوں کو پھنساتے ہیں، جن سے وہ زخمی ہو کر مر جاتے ہیں۔ مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ یہ پھندے ان کے جالوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کی مچھلی پکڑنے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں۔

10%
سمندر میں پھینکے جانے والے ماہی گیری کے جال کا تخمینہ (عالمی سطح پر)
FAO
سینکڑوں ٹن سالانہ
کراچی کے ساحل پر پائے جانے والے گوسٹ گیئر کا اندازہ (تخمینی)
مقامی ماحولیاتی تنظیمیں

کیا بدلا: آلودگی کا بڑھتا ہوا اثر

ماہی گیری کے پھندوں کی وجہ سے ہونے والی آلودگی میں اضافہ براہ راست سمندری ماحولیاتی نظام پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ یہ پھندے سمندر کی تہہ میں موجود مرجان کی چٹانوں اور سمندری گھاس کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں، جو بہت سے سمندری جانوروں کے لیے پناہ گاہ اور خوراک کا ذریعہ ہیں۔ جب یہ پھندے سمندر میں پھنس جاتے ہیں، تو وہ آہستہ آہستہ ٹوٹتے ہیں اور مائیکرو پلاسٹک میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جو خوراک کے سلسلے میں داخل ہو کر انسانی صحت کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

کراچی کے ساحل پر گوسٹ گیئر کی مقدار میں اضافہ (سالانہ تخمینہ)

Unit: ٹن
201850 ٹن
202075 ٹن
2022110 ٹن

یہ اعداد و شمار مختلف ماحولیاتی سرویز اور مقامی ماہی گیروں کے بیانات پر مبنی ہیں۔

یہ کیسے کام کرتا ہے: حل کی طرف اقدامات

گوسٹ گیئر سمندر میں ایک خاموش آفت ہے جو ہماری سمندری زندگی اور معیشت کو تباہ کر رہی ہے۔

ڈاکٹر عائشہ خان، سمندری حیاتیات دان

نتائج: سمندر کی صحت میں بہتری

اگر ان اقدامات پر عمل کیا جائے تو کراچی کے ساحل اور بحیرہ عرب کی مجموعی صحت میں بہتری آ سکتی ہے۔ گوسٹ گیئر کے خاتمے سے سمندری جانوروں کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے گا اور ماہی گیروں کو بھی زیادہ اور صحت بخش مچھلی ملے گی۔ ایک صاف ستھرا سمندر نہ صرف ماحولیاتی طور پر اہم ہے بلکہ سیاحت اور تفریح کے مواقع بھی بڑھاتا ہے۔

سمندری جانوروں پر گوسٹ گیئر کے اثرات کا موازنہ

Unit: %
زخمی جانور45 %
ہلاک شدہ جانور30 %
جال میں پھنسے جانور (جو بچ گئے)25 %

یہ اعداد و شمار 2023 میں سمندری ریسکیو تنظیموں کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔

دیگر کیا سیکھ سکتے ہیں: سبق اور عمل

عالمی تناظر

گوسٹ گیئر کا مسئلہ صرف کراچی یا پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی ماحولیات کی پروگرام (UNEP) اور دیگر عالمی تنظیمیں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

مستقبل کی راہ

کراچی کے ساحل پر گوسٹ گیئر کا مسئلہ ایک پیچیدہ چیلنج ہے جس کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ماہی گیروں، حکومت، ماحولیاتی تنظیموں اور عام شہریوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ سمندر کو اس خاموش آفت سے بچایا جا سکے۔ سمندر کی صحت کا تحفظ نہ صرف ہمارے ماحولیاتی مستقبل کے لیے بلکہ ہماری معیشت اور ثقافت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔

Frequently asked questions

گوسٹ گیئر کیا ہے اور یہ اتنا خطرناک کیوں ہے؟
گوسٹ گیئر وہ ماہی گیری کے جال اور سازوسامان ہیں جو سمندر میں پھینک دیے جاتے ہیں یا کھو جاتے ہیں۔ یہ سمندری جانوروں کو پھنساتے ہیں، انہیں زخمی کرتے ہیں اور اکثر موت کا سبب بنتے ہیں۔ یہ صدیوں تک سمندر میں باقی رہ کر آلودگی پھیلاتے ہیں۔
کراچی کے ساحل پر گوسٹ گیئر کی مقدار کتنی ہے؟
کراچی کے ساحل پر گوسٹ گیئر کی کوئی حتمی تعداد موجود نہیں ہے، لیکن مقامی ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق سالانہ سینکڑوں ٹن گوسٹ گیئر سمندر سے بہہ کر ساحل پر آ جاتا ہے۔
گوسٹ گیئر سے کون سے سمندری جانور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں؟
سمندری کچھوے، مختلف اقسام کی مچھلیاں، سمندری پرندے اور ممالیہ جانور جیسے ڈولفن اور وہیل گوسٹ گیئر سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
کیا گوسٹ گیئر انسانی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے؟
جی ہاں، گوسٹ گیئر ٹوٹ کر مائیکرو پلاسٹک میں تبدیل ہو جاتا ہے جو سمندری خوراک کے سلسلے میں داخل ہو کر انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
گوسٹ گیئر کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کون سے اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟
حکومتی پالیسیاں، بحالی کے منصوبے، شعور اجاگر کرنا، متبادل مواد کا استعمال، اور ٹیکنالوجی کا استعمال جیسے اقدامات گوسٹ گیئر کے مسئلے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
کیا ماہی گیر گوسٹ گیئر کے مسئلے میں کردار ادا کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، ماہی گیر اپنے جالوں کی مرمت اور دیکھ بھال کر کے، سمندر میں پھینکے جانے والے جالوں کی اطلاع دے کر، اور صفائی مہمات میں حصہ لے کر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Sources & further reading

  1. اقوام متحدہ کا خوراک اور زراعت کا ادارہ (FAO)FAO
  2. بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت (IUCN)IUCN
  3. اقوام متحدہ ماحولیات پروگرام (UNEP)UNEP
  4. سمندری آلودگی پر تحقیقی مقالہ، Nature Climate ChangeNature Climate Change
  5. گوسٹ گیئر پر عالمی رپورٹ، WWFWWF